ایک دوسرے کا خون پئیں …

Standard

ایک وقت
جس کا شدت سے تھا انتظار
کہ
بس آ ہی چکی قضا
اجڑ جائیں یہ گلستاں
آؤ
میں اور تم!
کُشت کی ہولی کھیل کر
مندر میں جے جے کار کریں

مستی میں ڈوب کر
آؤ کچھ دیر
یسوع کو بھول کر
گرجا میں رنگ کچھ بہائیں

آؤ کہ اب
مسجد آباد ہونے کو ہے
کچھ اس میں
رنگ و بارود کی بُو گھول کر
نور کی بہار کریں

کر رہا ہے گردش
جشم و جاں میں الگ الگ
آؤ اس گرم محلول کو
کو دوام ہم بخش دیں

ہے الگ الگ جو
رنگ و نسل میں جاری
اس خون کو سرِ بازار یکجا کردیں

رام، یسوع و خدا
کی زمیں پر
ہر سُو خون کی بارش میں
نہائیں
شاید اس سے بھی
تھک جائیں
میں اور تم ایک دن
تو پھر آؤ

آؤ میں اور تم
ایک دوسرے کا خون پئیں …

اسد

Thoughts …

Standard

10363797_779833922079887_4016677911017607853_n

We cannot change our past … we cannot change the fact that people will act in a certain way. We cannot change the inevitable. The only thing we can do is play on the one string we have and that is our attitude. I am convinced that life is 10% what happens to me and 90% of how I react to it. And so it is with you … we are in charge of our Attitudes …

#IamLion #IamAsad

Connect with me on  umDsi9f twitter-bird-logo-png-transparent-background3 linkedin icon Instagram_button